Definition,Incidence, Causative agent, Transmission, Clinical signs, Postmortem examination, Diagnosis, Treatment
تعریف:
یہ چوزو ں کی وہ بیماری ہے جس میں آنکھوں اور ناک سے رطوبت
کا اخراج ، سانس کی نالی میں سوزش، کھانسی اور ہوا کی نالیوں میں سوزش ہوتی ہے۔
وقوع:
یہ بیماری ساری دنیا میں پائی جاتی ہے مگر بعض علاقو ں سے
مکمل طور پر ختم کی جاچکی ہے۔ ہر عمر کے چوزوں اور پرندوں کی دوسری اقسام میں پائی
جانے والی یہ بیماری بے حد نقصان کا پاعث بنتی ہے۔
بیماری کا سبب:
یہ بیماری ایک جراثیم مائیکوپلازما گیلی سیپٹی کم(M. gallisepticum)کی وجہ
سے پیدا ہوتی ہے۔
مرض پھیلنے کا طریقہ :
* متاثر ہ مرغی کے
انڈے میں جراثیم موجود ہوتا ہے۔
* فلاک میں چوزوں
کے آپس میں ملنے جلنے سے بیماری پھیلتی ہے۔
* باہر سے بیمار
چوزوں کی تندرست فلاک میں آمد بیماری کا سبب بنتی ہے۔
علامات:
چوزوں میں علامات سردی کے موسم میں زیادہ شدید ہوتی ہیں ۔
آنکھوں اور ناک سے رطوبت کا اخراج اور کھانسی اہم علامات ہیں۔کھانسی کے ساتھ مخصوص
آوازیں جو کہ بیماری آنے کے 5سے 6دن بعدشدت اختیار کر جاتی ہے اس بیماری کی مخصوص
علامت ہے۔چوزے شکل وصورت سے ہی بیمار نظر آتے ہیں اور شدید د باو کا شکار ہوجاتے
ہیں
تصویر
اس مرض می شرح اموات کم ہوتی ہےمگر معاشی نقصانات زیادہ
ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پرندوں میں خوراک کو جزوبدن بنانے کی صلاحیت (FCR)میں
کمی ،اوسط وزن میں کمی اور ادویات کا زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔ انڈے دینے والی
مرغیوں میں انڈوں کی پیداوار میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔
معائنہ بعدازموت:
مرض کے آغاز میں مرنے والے پرندوں کی آنکھ کے اردگرد اور
سانس کی نالی میں سوزش پائی جاتی ہے اور اس کے ساتھ ہی ہلکے پیلے رنگ کا کریم نما
مواد پایا جاتا ہے۔
تصویر
ہوا کے خانوں میں سوزش اور جھاگ نما مواد اکٹھا ہوجاتا ہے۔
تصویر
مرض کے اواخر میں مرنے والے پرندوں میں ہو ا کے خانے سخت
ہوجاتے ہیں اور ان میں پایا جانے والا مواد بھی گاڑھا ہوجاتا ہے
تصویر
کسی انفیکشن کی وجہ سے دل ،جگر اور دوسرے اندرونی اعضا میں
بھی کریم نما مادہ بکثرت موجود ہوتا ہے۔
تشخیص:
ظاہری علامات اور پوسٹمارٹم کی مدد سے مرض کی تشخیص کی
جاسکتی ہے۔لیبارٹری میں جراثیم کو علیحدہ کر کے ان کی تشخیص کی جاسکتی ہے۔ ہوا کی
نالیوں میں سے بھی جراثیم کو حا صل کیا جاسکتا ہے۔ لیبارٹری میں (Plate agglutination test)کی مدد سے بھی
مرض کی فوری تشخیص کروائی جاسکتی ہے۔
علاج:
اس بیماری میں عام طور پر ٹائیلوسین (Tylosin)نامی دوائی بذریعہ
پانی دی جاتی ہے جس کے استعمال کے تین یا چار دن بعد سانس کی تکلیف ختم ہوجاتی ہے۔
مرض کی شدت میں ٹائیلوسین اور ڈائی ھائیڈروسٹریپٹومائی سین کا زیر جلد ٹیکہ نہایت
مفید ثابت ہوتا ہے۔ فیڈ میں ٹائیلوسین کا پانچ دن تک استعمال اچھے نتائج دیتا ہے۔
اگر اس مرض کے ساتھ ای کولائی بھی وقوع پذیر ہوجائے تو وسیع
تر دائرہ اثر رکھنے والی اینٹی بائیوٹک ادویات بہتر نتائج فراہم کرتی ہیں۔آکسی
ٹیٹراسائیکلین ،کلورٹیٹراسائیکلین ، اریتھرومائیسین، فلومی کوین ، نارفلاکساسین
اور اینروفلاکساسین جیسی ادویات سودمند ہوتی ہیں۔ (Senstivity) رپورٹ کے مطابق ادویات کا
استعمال زیادہ اچھے نتائج کا حامل ہوتا ہے۔




No comments:
Post a Comment