Monday, 17 March 2014

Fowl cholera: مرغیوں کا ہیضہ

Read Fowl cholera disease in Urdu, useful poultry, Birds, Animals farming articles, This articles is clearly with diagram, Medication and Prevention of  Diseases, Preventive Medication, Routes of drug administration, Prevention and control of diseases and much more
Definition,Incidence, Causative agent, Transmission, Clinical signs, Postmortem examination, Diagnosis, Treatment




تعریف:
مرغیو ں کی وہ متعدی بیماری ہے جو خون میں سمی اثرات پیدا کرتی ہےاور دیرینہ صورت(Chronic)بھی اختیار کر لیتی ہے۔ شرح بیماری اور شرح اموات بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے نقصان بھی کافی زیادہ ہوتے ہیں۔

وقوع:
یہ متعدی بیماری ہے اور پولٹری فارمنگ کرنے والے تمام علاقو ں میں پائی جاتی ہے۔اگر بیماری کسی ایک فارم پر وقوع پذیر ہوجائے تو سارے علاقے میں پھیل جاتی ہے۔ یہ مرض مرغیوں ،فیل مرغ،بطخ اور جنگلی پرندوں میں پایا جاتا ہے۔ فیل مرغ میں اس کا وقوع مرغیوں کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔ گرمی کے موسم میں اس بیماری کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔

بیماری کا سبب:
اس مرض کی سبب پاسٹوریلاملٹوسیڈا(Pasteurella multocida)نامی ایک جرثومہ ہے جس کی کئی اقسام مرغیوں میں بیماری پھیلانے کا سبب بنتی ہیں۔

مرض پھیلنے کا طریقہ:
* کیرئر پرندہ کے فلاک میں داخل ہونے کے باعث بیماری پھیلتی ہے۔
*  فلاک میں پرندوں کے درمیان بیماری ناک کی رطوبت، مردہ پرندوں اور گندے پانی میں فراہمی کی وجہ سے پھیلتی ہے۔
*  عام لوگوں کا فارم میں آنا جانا اور آلات میں جرثومہ کی موجودگی بھی بیماری کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کرنی ہے۔

علامات:
فلاک میں اچانک شرح اموات بڑھ جاتی ہے۔پرندے شکل وصورت سے بیمار نظر آتے ہیں اور چلنے سے قاصر ہوتے ہیں۔چوزوں کے پر اڑے اڑے ہوتے ہیں اور چونچ میں سے لیس دار مادہ کا اخراج ہوتا ہے ۔ اس مرض میں پرندے پیلے رنگ کے دست کرتے ہیں جن کا رنگ بعد میں سبز ہوجاتا ہے۔ مرغیوں کی کلغی اور داڑھی میں شوزش ہوجاتی ہے جو کہ بیماری کی اہم علامت ہے۔
تصویر

مرض دیرینہ ہونے کی صورت میں علامات کا انحصار جرثومہ کا مختلف اعضا میں قیام پر ہوتا ہے۔اس قسم کے مرض میں جوڑوں کی سوزش اور سینے کی ہڈی کے خانے میں سوزش ہوجاتی ہے۔ آنکھوں میں سوجن کے ساتھ ساتھ پنیر نما مادہ اکٹھا ہو جاتا ہے اور سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔ شرح اموات کم اور انڈوں کی پیداوار میں کمی کم ازکم 2ماہ تک فلاک کو متاثر کرسکتی ہے۔
شفا پاجانے والے پرندے کیرئر کے طور پر رہتے ہیں اور بیماری کو پھیلانے کا سبب بنتے ہیں مگر مستقبل میں اس بیماری سے ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوجاتے ہیں۔

معائنہ بعد از موت:
مردہ پرندے کے سر کے اردگرد کا حصہ گہری نیلی رنگت اختیار کرلیتا ہے۔ گوشت کا رنگ بھی گہرا ہوجاتا ہے۔ اندرونی اعضا ازقسم دل، پھیپھڑےپیٹ کے اوپر والی چربی اور بڑی آنت میں خون کے دھبے نظر آتے ہیں۔ جگر کی سطح پر خون کے باریک دھبو ں کے علاوہ پیلے رنگ کے بڑے دھبے بھی پائے جاتے ہیں۔
تصویر

بیضہ دان کے اوپر بھی خون نظر آنا شروع ہوجاتا ہے۔ دیرینہ مرض میں نمونیا ، چہرے کی سوجن ،آنکھوں میں پنیر نمامادہ ظاہر ہوجاتا ہے۔

تشخیص:
*  مرض کی علامات اور اعضاکا معائنہ کرنا چاہیئے تاکہ بروقت تشخیص کی جاسکے۔
*  لیبارٹری میں جراثیم کی تشخیص کروانی چاہئے۔

علاج:
سلفاادویات کے علاوہ سٹرپیٹومایئسین، کلورٹیٹرا سائیکلین،نووبائیسین اور اریتھرومائیسین جیسی اینٹی بائیوٹک ادویات اچھے نتائج دیتی ہیں۔ کلورم فینی کال کا 20 ملی گرام فی کلوجسمانی وزن کے حساب سے گوشت میں ٹیکہ بھی مفید ثابت ہوتا ہے۔ جس فلاک میں انڈوں کی پیداوار میں کمی واقع ہوگئی ہو اور شرح اموات میں اضافہ ہوگیا ہو اس میں ادویات کا استعمال خوراک اور پانی کے ذریعے ایک ہفتے تک کروانا چاہئے اور ایک مہینے بعد اس کو دہرانا بھی ضروری ہے۔

No comments:

Post a Comment