Read Pullorum disease in Urdu, useful
poultry, Birds, Animals farming articles, This articles is clearly with
diagram, Medication and Prevention of Diseases, Preventive Medication,
Routes of drug administration, Prevention and control of diseases and much more
تعریف:(Definition)
مرغیوں کی ایسی متعدی بیماری جس میں پہلے تین
ہفتوں میں شرح اموات زیادہ ہوتی ہے اور اس کے ساتھ اندرونی اعضاء میں ہلکے سرمئی
رنگ کے دھبے پائے جاتے ہیں۔ بڑی عمر کے پرندے جراثیم کو مسلسل طور پر رکھنے کا سبب
بنتے ہیں۔ جنہیں (Carrier)کہتے ہیں۔
وقوع:(Incidence)
یہ بیماری پوری دنیا کے ان علاقوں میں پائی
جاتی ہے جہاں پر پولٹری فارمنگ کی جاتی ہے۔تاہم بعض ممالک میں سے اس بیماری کو
مکمل طور پر ختم کیا جاچکا ہے۔ عام طور پر مرغیاں، فیل مرغ، بٹیر، کبوتر اور بہت
سے جنگلی پرندے اس بیماری سے متاثر ہوتے ہیں۔ کم وزن والے پرندوں میں بیماری کا
وقوع قدرے کم ہوتا ہے۔
بیماری کا سبب:(Causative agent)
اس بیماری کو پیدا کرنے والے جراثیم کا نام
سالمونیلاپلورم ہے۔ یہ ایک گرام منفی جرثومہ ہے۔
مرض پھیلنے کا طریقہ:(Transmission)
پلورم کے جراثیم درج ذیل طریقے سے بیماری
پھیلانے کا سبب بنتے ہیں۔
۱: متاثرہ انڈے، چوزے اور کیرئر پرندے اگر پولٹری
فارم پر لائے جائیں تو بیماری پھیلانے کا موجب ہوتے ہیں۔
۲: انڈے دینے والی مرغیاں اگر کیرئر بن جائیں
توہمیشہ جراثیم کو انڈوں میں منتقل کردیتی ہیں اور ان سے نکلنے والا چوزہ بھی
بیماری پھیلاتا ہے۔
۳: متاثرہ انڈے، بیٹ اور بیمار چوزوں کے اعضاء کو
کھانے کی وجہ سے بھی بیماری پھیلتی ہے۔
۴: خوراک کے تھیلے، انڈوں کی ٹوکریاں، برادہ،
مکھیاں، چوہے اور ہوا میں عام اڑنے والے پرندے بھی کسی حد تک بیماری کو پھیلاتے
ہیں۔
۵: متاثرہ پولٹری فارم پر دی جانے والی خوراک اگر
کسی دوسرے پولٹری فارم پر دی جائے تو اس سے بھی بیماری پھیل سکتی ہے۔
علامات:(Clinical signs)
۱: اس بیماری کی سب سے بڑی علامت سفید رنگت کے
لیس دار دست ہیں جو کہ مقعد کے اردگرد چپک جاتے ہیں جس کو (Pasting) کہتے ہیں۔ اس وجہ سے
چوزے کو بیٹ کرنے میں سخت دقت ہوتی ہے اور بیٹ کرتے وقت خاص قسم کی حالت (Posture)بناتا
ہے اور ایک خاص آواز نکالتا ہے۔
۲: مرض کا حملہ عموما اس طرح ہوتا ہے کہ فلاک میں
بہت سے چوزے بغیر کسی ظاہری علامت کے پائے جاتے ہیں۔ پہلے ہفتے میں چوزوں کے پر
گندے ہوجاتے ہیں ۔ وہ خوراک نہیں کھاتے اور ست ہوکر ہجوم کی صورت میں زیادہ درجہ
حرارت والی جگہ پر اکٹھے ہوجاتے ہیں۔
۳: شرح اموات عموما انفیکشن کے چوتھے دن سے بڑھنا
شروع ہوجاتی ہے اور آٹھویں دن کم ہوجاتی ہے۔ عام طور پر شرح اموات ۵ سے ۱۵ فیصد تک ہوتی ہے۔
۴: جراثیم اگر پھیپھڑوں تک پہنچ جائے تو چوزوں کو
سانس لینے میں سخت دشواری پیش آتی ہے اور وہ گردن لمبی کر کے سانس لینے کی کوشیش
کرتے ہیں۔
۵: بعض اوقات پیر کے جوڑوں میں چھالے نما زخم بھی
بن جاتے ہیں اور لنگڑاپن نمودار ہوتا ہے۔
۶: جراثیم کی عصبی نظام تک رسائی اعصابی علامات
بھی ظاہر ہوسکتی ہیں۔
۷: جو ان مرغیوں میں ظاہری علامات بہت کم نظر آتی
ہیں مگر خون میں سمی اثرات(Septicemia) پیدا ہوجاتی ہیں۔
۸: جراثیم کے بیضہ دان میں اکٹھا ہونے کی وجہ سے
انڈوں کی پیداوار میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔
معائنہ بعدازموت:(Postmortem examination)
۱: بیماری کے بعد اگر چوزہ جلدی ہی مرجائے تو جگر
اور پھیپھڑوں میں صرف خون کے دھبے نظر آتے ہیں۔
۲:
۶ سے ۷ دن کی
عمر کے چوزوں میں مخصوص قسم کے سفید اور سرمئی دھبے دل اور پھیپھڑوں میں خصوصا
پائے جاتے ہیں۔
۳: جگر میں سوزش کے علاوہ سفید دھبے (Necrosis)نظر آتے
ہیں۔ ہوا لگنے پر جگر کی رنگت سبزی مائل
ہوجاتی ہے۔
۴: بعض اوقات انتڑیوں کی سوزش کی وجہ سے ان کا
سائز بڑھ جاتا ہے اور سفید رنگ کے دھبے بھی پائے جاتے ہیں۔
۵: گردوں میں خون کے دھبے اور تلی کی سوزش بھی اس
بیماری علامات میں سے ایک ہیں۔
تشخیص:(Diagnosis)
بیماری کی علامات اور معائنہ بعدازموت اس
بیماری کی تشخیص میں مدگار ثابت ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ لیبارٹری میں جراثیم کی
نشوونما(Culture)کے ذریعے بھی بیماری کی تشخیص کی جاتی ہے۔
علاج:(Treatment)
علاج شروع کرنے سے قبل کسی مستند لیبارٹری سے
ادویات کی(Sensitivity) رپورٹ ضرور حاصل کر لینی چاہیئے۔
ادویات کا استعمال خوراک اور پانی دونوں طریقوں سے کرنا
چاہیئے۔ سلفاگروپ کی ادویات سے اچھے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ خوراک میں فیوراذ
ولیڈون اور پانی میں فیورالٹا ڈون بھی بہتر ثابت ہوتاہے۔ وسیع تر دائرہ اثر رکھنے
والی اینٹی بائیوٹکس میں کلورٹیٹرا سائیکلین ۲۰۰ ملی
گرام فی کلو جسمانی وزن کے حساب سے استعمال کروائی جاسکتی ہے۔ نارفلو کساسین، اینروفلا
کساسین اور فلومی کوین جیسی ادویات ۱۲ ملی
گرام فی کلو جسمانی وزن کے حساب سے اچھے نتائج دیتی ہیں۔


No comments:
Post a Comment