Sunday, 2 March 2014

Post Mortem Examination: معائنہ بعدازموت

Read Mortem Examination in Urdu, useful poultry, Birds, Animals farming articles, This articles is clearly with diagram, Medication and Prevention of  Diseases, Preventive Medication, Routes of drug administration, Prevention and control of diseases and much more!




معائنہ بعدازموت(Post Mortem Examination)
اس قسم کے معا ئنہ کے لیے سب سے اہم اور ضروری بات یہ ہے کہ معائنہ کرنے والے فرد کو پرندے کے جسمانی نظام،جسمانی ڈھانچہ،اندرونی اعضاکی نارمل حالت، شکل وصورت اور رنگت کے ساتھ ساتھ امراض کے متعلق مکمل معلومات ہونی چاہئیں۔تجربہ کار افراد کی مد دزیادہ سود مند ہوتی ہے۔ بہر حال پوسٹ مارٹم کا سب سے بڑا مقصد یہ ہے کہ اندرونی اور بیرونی طور پر پرندے کا معا ئنہ اس طریقہ سے کیا جائے کہ موقع پر ہی بیماری کی تشخیص ہوجائے ۔
تصویر

تصویر میں صحت مند پرندے کے اندرونی اعضا کو دیکھایا گیا ہے۔ پوسٹ مارٹم کرتے وقت مندرجہ ذیل نکات پر عمل کرنا فائدہ مند ہوتا ہے۔
سب سے پہلے زندہ پرندے کا جائزہ لینا چاہیے۔اس میں جسمانی ڈھانچہ ،آنکھوں اور ناک سے رطوبت ، کلغی کا رنگ ، کھانسی اور کمزوری وغیرہ کا جائزہ بہت  ضروری ہے اس کے بعد مردہ پرندہ کو کھولنا چاہیے۔
۱۔ مردہ پرندے کو پہلے کسی جراثیم کش دوائی والے پانی میں ڈبو کر کمرکے بل میز پر لٹایا جائے ۔
تصویر 
۲۔ ٹانگوں کے درمیان سے کھال کو قینچی کی مدد سے کاٹا جائے ۔
تصویر 
۳۔ ٹانگوں کو اس طرح موڑا جائےکہ ان کا درمیانی جوڑ خود بخود ٹوٹ جائے۔
تصویر 
۴۔پیٹ کی کھال کو بھی قینچی کی مدد سے کاٹا جائے تاکہ پورے جسم کی کھال اتاری جاسکے۔
تصویر 
۵۔سینے کی ہڈی کے پچھلی طرف ایک کٹ لگایا جائے اور قینچی کا موٹا حصہ پیٹ میں داخل کردیا جائے تاکہ پسلیوں کو دونوں طرف سے کاٹا جاسکے۔
تصویر 
۶۔جسم میں سے تمام اعضا کو باہر نکال کر میز پر پھیلا دینا چاہیے تاکہ اچھی طرح مشاہدہ کیا جاسکے۔
تصویر 
۷۔چھوٹے معدہ کو چمٹی اور قینچی کی مدد سے کاٹ لیا جائے۔
تصویر 
۸۔چھوٹے معدہ میں ایک طرف سے قینچی اندر داخل کرکے اس کو کھول لیا جائے۔
تصویر 
۹۔چھوٹی آنت کو کاٹ کر اندر سے اچھی طرح سے دیکھا جائے۔
تصویر 
۱۰۔بڑی آنت کو بھی کاٹ کر اندر سے معائنہ کیا جائے۔
تصویر 
۱۱۔اسی طرح سانس کی نالی کا بھی اندرونی معائنہ کیا جائے۔
تصویر 
اس کے بعد مندرجہ ذیل اعضا کا بغور مشاہدہ کرنا چاہیے۔
جگر (Liver)
سنگ دانہ(Gizzard)
گردے (Kidneys)
پھیپھڑے (Lungs)
اس کے علاوہ باقی ماندہ اعضا کا معائنہ بھی کر لینا چاہیے۔

امراض کے علاج اور روک تھام (Medication and Prevention of  Diseases)
علاج(Medication)
مرغیوں میں درج ذیل تین اہم مقاصد کے لیے ادویات کا استعمال کیا جاتا ہے۔
(۱) بیرونی دباؤ کے خلاف  (Stress Medication)
اس قسم کا علاج میں فلاک کو ویکسین کرنے کے بعد وٹامن جو کہ پانی میں حل پذیر ہوتے ہو،دئیے جاتے ہیں۔اس کا مقصد پرندوں کو دباؤ (Stress)سے بچاتا ہے۔

(۲) علاج برائے احتیاط و بچاؤ (Preventive Medication)
اس قسم کا علاج کسی بھی بیماری کے آنے سے قبل کر لیا جاتا ہے۔اس مقصد کے لیے خوراک میں دوائی کی مناسب مقدار شامل کرلی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر خونی پیچش سے بچاؤ کے لیے استعمال ہونے والے (Coccidiostat)مرغیوں کی خوراک میں شامل کردئیے جاتے ہیں۔

(۳) علاج کی یہ قسم مرض کی تشخیص کے مطابق اپنائی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر جراثیم کش ادویات ،کرم کش ادویات وغیرہ۔

ادویات دینے کے مختلف راستے (Routes of drug administration)
پینے کا پانی(Drinking water)
اس طریقہ سے ادویات دینے کا فائدہ اس صورت میں ہوتا ہے کہ کم سے کم ملازمین کی ضرورت پڑتی ہے اور بیمار جانور آسانی سے پانی پی لیتے ہیں۔ اس کا نقصان اس صورت میں ہوتا ہے کہ تمام پرندے یکساں طور پر پانی نہیں پی سکتے اس لیے دوائی تمام فلاک میں طور پر تقسیم نہیں ہو پاتی ۔ اس طریقہ علاج کے موثر ہونے کے لیے یہ  ضروری ہے کہ پرندوں کو کچھ دیر کے لئے پیاسا رکھا جائے تاکہ دوائی ملا پانی دینے پر وہ اسے با ا ٓسانی پی لیں۔
تصویر 
خوراک  (Feed)
اس طریقے سے دوائی دینے کا فائدہ وہی ہے کہ ملازمین کی ضرورت پیش نہیں آتی مگر بیمار پرندے کم بھوک لگنے کی وجہ سے کم مقدار میں خوراک کھاتے ہیں اور دوائی کی مقدار کو بووقت ضرورت کم نہیں کیا جاسکتا۔
تصویر 
بذریعہ ٹیکہ (Injection)
ٹیکہ کے ذریعے دوا کی مطلوبہ مقدار تمام پرندوں کو فراہم کی جاسکتی ہےاور زیادہ  بیمار پرندوں کا الگ مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ تاہم پرندوں کو پکڑنے سے بیرونی دباؤکا خدشہ اور نا تجربہ کاری کی وجہ سے غلط ٹیکہ نقصان کا باعث ہوسکتا ہے ۔
تصویر 
امراض کی روک تھام (Prevention and control of diseases)
پولٹری فارم پر کسی مرض کی روک تھام اور قریبی فارمز سے بیماری کے پھیلاؤ سے بچاؤ کے لیے مختلف حفاظتی تدابیر کرنا لازمی ہے ۔ ذیل میں چند اہم نکات دیئے جارہے ہیں جن کو اپناتے ہوئے کوئی بھی فارمر اپنے فلاک کو بیماریوں سے کسی حد تک محفوظ کرسکتا ہے۔
*  اپنے فارم کو قریبی پولٹری فارمز سے الگ تھلگ رکھنا چاہئے۔
*  پولٹری فارم پر ہر وقت صفائی کا خاص خیال رکھنا چاہئے۔
*   ہمیشہ اعلیٰ کوالٹی کا چوزہ ہیچری سے خریدنا چاہئے۔
*   چوزوں کو صاف اور تازہ پانی کی وافر سپلائی ہونی چاہئے۔
*   فارم پر مناسب درجہ حرارت ، نمی اور تازہ ہوا کا بندوبست ہونا چاہئے۔
*   چوزوں کی ویکسین مناسب وقت اور عمر میں ہونی چاہئے۔
*   بیماریوں کی علامات دیکھنے کے لیے فلاک کا مشاہدہ روزانہ کرنا چاہئے۔
*   مرض کی بروقت تشخیص اور مناسب علاج ہونا چاہئے ۔

No comments:

Post a Comment